"گلگت بلتستان ایک خوبصورت مگر جغرافیائی طور پر دور افتادہ خطہ ہے، جہاں معیاری تعلیمی وسائل تک رسائی محدود ہے۔ ایسے میں سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریاں طلبہ کے لیے علم کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔"
گلگت بلتستان ایک خوبصورت مگر جغرافیائی طور پر دور افتادہ خطہ ہے، جہاں معیاری تعلیمی وسائل تک رسائی محدود ہے۔ ایسے میں سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریاں طلبہ کے لیے علم کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے سکولوں میں لائبریری کا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ میں بچپن سے ہی مطالعے کی عادت پیدا ہو۔ کتابیں بچوں کی سوچ، اخلاق اور شخصیت کو بہتر بناتی ہیں۔ لائبریری بچوں کو نصابی کتابوں کے علاوہ اضافی معلومات حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے، جس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور سیکھنے کا شوق بڑھتا ہےکالجوں میں لائبریری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں طلبہ کو تحقیق، اسائنمنٹس اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فعال لائبریری معیاری کتب، جرائد، اخبارات اور حوالہ جاتی مواد فراہم کر کے طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافہ کرتی ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے خطے میں، جہاں بہت سے طلبہ مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں، لائبریری علم تک مساوی رسائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ تحقیقی مشاہدے کے مطابق اس وقت بلتستان ڈویژن کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ یونیورسٹی آف بلتستان ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں نہ تو لائبریری کا کوئی مؤثر اور معیاری سیٹ اپ موجود ہے اور نہ ہی باقاعدہ تربیت یافتہ لائبریری پروفیشنل کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ جدید تحقیقی مواد، ڈیجیٹل ریسورسز اور علمی سہولیات سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ ۔ اسی طرح میونسپل لائبریری سکردو میں بھی نہ تو کوئی پیشہ ور لائبریرین موجود ہے اور نہ ہی طلبہ کے لیے جدید اور معیاری علمی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ نتیجتاً یہ لائبریریاں اپنے اصل مقصد یعنی علم کے فروغ اور تحقیقی معاونت میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں نہ صرف لائبریریوں کا قیام بے حد ضروری ہے بلکہ ان کا پیشہ ورانہ بنیادوں پر انتظام و انصرام بھی ناگزیر ہے۔ تربیت یافتہ لائبریری پروفیشنلز کی تقرری، جدید کتب، ڈیجیٹل لائبریری سسٹمز اور آن لائن تحقیقی ڈیٹا بیسز کی فراہمی کے بغیر تعلیمی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر گلگت بلتستان میں لائبریریوں کو مضبوط کیا جائے اور لائبریری سائنس کے ماہرین کو ذمہ داریاں سونپی جائیں تو نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہو گا بلکہ یہ خطہ علمی اور تحقیقی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکے گا۔